علی گڑھ ؍ممبئی،11؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کے اُڈپی سے شروع ہواحجاب تنازع آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیلتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کے علی گڑھ سے مہاراشٹر کے مالیگاؤں تک مسلم خواتین نے حجاب کی حمایت میں مظاہرے کیے ہیں۔ برقع پہن کر مظاہرے میں شامل ہوئیںخواتین نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا کر حجاب کی حمایت کی ہے۔ جمعہ کو یوپی کے علی گڑھ میں مسلم خواتین نے حجاب کی حمایت میں احتجاج کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ حجاب ہمارا حق ہے، ہم اسے نہیں اتاریں گے۔
اس سے قبل جمعرات کو مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں ہزاروں مسلم خواتین نے مظاہرہ کیا۔ احتجاج کے دوران خواتین کے پلے کارڈز پر ’حجاب ہمارا حق ہے اور حجاب پر پابندی واپس لیں‘ کے نعرے درج تھے۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے جمعہ کو مالیگاؤں میں یوم حجاب منائیں۔
مالیگاؤں احتجاج کا اہتمام جمعیۃ علماء ہند تنظیم نے کیا تھا۔ احتجاج کے بعد پولیس نے تنظیم سے وابستہ 4 افراد کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پروگرام کے لیے مقامی انتظامیہ سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ اس معاملے میں پولیس نے مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے مقامی ایم ایل اے کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ ایم ایل اے پر مظاہرے میں حصہ لینے اور تقریریں کرنے کا الزام ہے۔
جموں میں حجاب کے خلاف احتجاج: آر ایف اے ڈوگرہ فرنٹ کے کارکن جموں میں حجاب کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے سیاسی میدان جنگ نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں نہ تو حجاب اور نہ ہی بھگوا شالوں کی اجازت ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں حجاب پر تنازع یکم جنوری 2022 کو شروع ہوا تھا۔ یہ تنازع ریاست کے اُڈپی ضلع میں خواتین کے پری یونیورسٹی کالج سے شروع ہوا تھا۔ یہاں مسلم اسکولی طالبات کو حجاب پہننے پر پابندی تھی۔ اس کے خلاف مسلم لڑکیوں نے احتجاج کیا۔ یہ بات آہستہ آہستہ پھیلتی گئی اور احتجاج کے طور پر مسلمان لڑکیاں حجاب پہن کر ریاست کے دوسرے کالجوں میں آنے لگیں۔
ہندو طلباء احتجاجاً بھگوا شالیں پہن کر کلاس میں آنے لگے۔ اس معاملے پر کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ عدالت نے طلبا کو حکم دیا ہے کہ وہ سماعت تک کالج میں کوئی مذہبی لباس نہ پہنیں۔ سپریم کورٹ میں بھی کئی لوگوں نے اس کیس کی سماعت کے لیے درخواستیں دی ہیں، لیکن سپریم کورٹ نے اس کی فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔